نئی دہلی31دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک تانترک یوتھ جنتا دل کے قومی صدر سلیم مدور نے بلند شہر کے انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کے قاتلوں کی گرفتاری پر اترپریش حکومت کے ٹال مٹول رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کی تحقیقات الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنو بینچ کی نگرانی میں کرائی جائے۔ انہوں نے بلند شہر میں سبودھ کمار کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے کے بعد جاری ایک بیان میں کہاکہ اس واقعہ کو کئی ہفتے گزر چکے ہیں لیکن اصل قاتل اترپردیش پولیس کی دسترس سے باہر ہے اور پولیس اسے پکڑنے کے بجائے روز نئی نئی تھیوری لے کر آرہی ہے جب کہ یہ سب کو معلوم ہے کہ وہ بجرنگ دل کا ضلع کا کنوینر ہے لیکن پولیس کو بجرنگ دل کا نام لینے میں بھی پسینے میں آرہے ہیں۔انہوں نے حکومت اترپردیش پر مجرموں کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ یوپی حکومت کی ترجیح اور نیت انسپکٹر سبود ھ کمار سنگھ کے قاتل کو پکڑنے میں نہیں ہے بلکہ وہ گؤ رکشا کی آڑ میں انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کے قاتلوں کو بچانے اور بے قصور مسلم نوجوانوں کو پکڑنے میں ہے۔ اسی لئے یوپی پولیس روز بروز نئی تھیوری کے ساتھ آرہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اترپردیش پولیس کی دلچسپی اپنے انسپکٹر کے قاتلوں کو پکڑنے میں قطعی نہیں ہے اور وہ مقامی نمائندوں کے دباو میں کام کرہی ہے۔مسٹر سلیم مدور نے انسپکٹر کے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران انہیں یقین دلایا کہ وہ انسپکٹر سبودھ کے قاتلوں کی گرفتاری اور انہیں انجام تک پہنچانے کے لئے قانونی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں اور قانونی جنگ لڑنے میں وہ ان کا ہر ممکن طور پر ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ تمام صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ اس معاملے میں اس وقت سچ سامنے نہیں آئے گا اور مجرم کیفرکردار تک نہیں پہنچیں گے جب تک اس معاملے کی تحقیقات ہائی کورٹ کی نگرانی میں نہ کرائی۔ اس لئے لوک تانترک جنتادل یوتھ اترپردیش اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات ہائی کورٹ کی نگرانی میں کرائی جائے۔ مسٹر سلیم نے کہا کہ مقتول انسپکٹر کی اہلیہ رجنی سنگھ، بیٹے شریہ پرتاپ سنگھ اور ابھیشیک پرتاپ سنگھ نے ہم لوگوں سے کہاکہ ’’انصاف ملنے تک وہ حکومت کی کسی طرح کی مدد قبول نہیں کریں گے‘‘۔